توہین عدالت سے توہین ذات تک :تحریر سید عابد گیلانی



توہین عدالت سے توہین ذات تک

”قربت “بھی ایک بڑی آزمائش ہے۔ جب انسان اس کے تھپیڑوں کا شکار ہوتا ہے ۔ تو عشق و محبت کی لہریں خوب خوب ڈبکیاں لگواتی ہیں اور دوران سفر اگر کڑی آزمائش پر عاشق، محبوب کی توا قعات پر پورا نہ اترے تو یہ لہریں دریا کی طرح مردہ لاشے کواٹھا کے باہر پھینک دیتی ہیں۔
سنا ہے کہ سچے عشق میں رقیب کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔جو جو بھی محبوب سے نسبت یا محبت رکھتا ہے عاشق اس سے بھی محبت کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ
پائے سگ بوسیدہ مجنوں خلق گفتنی !چہ بود
گفت ! گاہے گاہے ایں در کوئے لیلیٰ رفتہ بود
مجنوں کتے کے پاﺅں کو بوسہ دے رہا تھا لوگوں نے پوچھا بے وقوف یہ کیا کر رہے ہو ۔ اس نے کہا میں جو کر رہا ہوں وہ ٹھیک کررہا ہوں ۔ یہ کتا کبھی کبھی میرے محبوب لیلیٰ کی گلی سے گزرتا ہے ۔ اس کے پاﺅں کو میرے محبوب کی گلی سے نسبت ہے ۔ لہذا مجھے اس کے پاﺅں کے تلوﺅں سے بھی پیا ر ہے۔
ہمارے ”دوست“ کو شاید عشق و محبت کے اس فلسفے کی پوری طرح سمجھ نہ آسکی ۔ وہ دستور عشق سے ہٹ کر قصرِ محبوب کی طرف جانے والے ہر شخص کو اپنا رقیب سمجھ بیٹھے ۔ انہیں خبر ہی نہ ہوئی کہ محبت میں رقیب تو پالے ہی نہیں جاتے۔ یوں قربت کی آزمائش کا سفر شروع ہوا ۔ عشق نے جتنی منزلیں جس تیزی کے ساتھ طے کیں تھیں اسی سرُعت کے ساتھ ریورس گیئر بھی لگ گیا۔
پھر یوں ہواکہ ایک روز ایک منزل سے گرے پھر دوسری منزل سے نیچے۔ ابھی اس درد سے نکلے ہی نہیں تھے کہ تیسری منزل سے نیچے آگرے۔اب سنا ہے کہ محبت کا آخری اعزاز بھی واپس لیا جا رہا ہے۔ کچھ ضمنی عطائیں اور عنایات بھی چھین لی گئیں۔
محبوب پردیس روانہ ہوئے توعاشق کو وصال کی تڑپ نے بے چین کر دیا ۔ ایک صوفی کی درگاہ کی درگاہ پہ آمنا سامنا ہو گیا ۔ مگر دربانوں کو سختی سے ہدایت کی کہ اسے محبوب کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا۔
یہ عاشق نا مراد کوئی پاگل یا مجنوں نہیں بلکہ ہمارے پیارے ”دوست“ علامہ پروفیسر ڈاکٹر بابر ا عوان صاحب ہیں۔جو چار برس تک زرداری صاحب کی ”محبت“ میں دیوانہ وار عدالتوں سے ٹکراتے رہے ۔ جنون عشق اس قدر غالب تھا کہ عدالت عظمی کو للکارتے بھی رہے ۔ کسی نے اس عاشق زار کو نہیں بتایا کہ بابا اس طرح سے منزل نہیں ملتی ۔
توہین عدالت کے ساتھ ساتھ توہین ذات اور وہ بھی بذات خود ۔ بہت کوشش کی کہ لغت کی کتاب سے ”اکھڑ“ لفظ کا کوئی مہذب مطلب میسر آسکے ۔مگر افسوس جو سب سے کم توہین آمیز الفاظ ملے وہ کچھ اس طرح سے ہیں ۔”اکھڑ“ اس انسان کو کہتے ہیں جو اُجڈ، گنوار، غیر مہذب ، تُند خُو، بد خُلق ، درشت مزاج ہو۔”اکھڑ “اس جانور کو بھی کہتے ہیں جسے سہلایا نہ جا سکے ۔ یہ تمام کی تمام انسانی خصلتیں رزائل اخلاق کے زمرے میں آتی ہیں۔اس کے بعد بھی اگر کسی شخص کو توہین عدالت کے جرم میں سزا ہو جائے تو کم از کم مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوگا ۔ میرے نزدیک اس سطح سے زیادہ نیچے گر کر معافی کی درخواست کرنا شاید ممکن نہیں ۔ بالآخر ہمارے ”دوست“ کواعلیٰ عدلیہ کے ایک عہدے دار سے کہنا پڑا کہ ”مجھے عدلیہ کا تمسخر اڑانے کے لیے باقاعدہ استعمال کیا گیا۔“
عشق بتاں میں بقول ان کے ہماری حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہم غربت کی راہ پہ چل پڑے ہیں ۔ کیونکہ ہماری روزی روٹی کمانے کا واحد ذریعہ وکالت کا لائسنس بھی معطل ہے ۔۔۔ قومی سلامتی کمیٹی کی رکنیت بھی ختم ۔۔۔ نائب صدر کا عہدہ بھی واپس ۔۔۔ پیپلز لائیر فورم کی ممبر شپ بھی کینسل ۔۔۔ آخری بچی ہوئی سیٹ سینٹرشپ بھی چھیننے کی تیاریاں ۔۔۔ اس کے باوجود بھی ہمارا ”دوست“ کو مشورہ یہ ہے کہ وہ مجنوں کی طرح اس آزمائش کو بھی اعزاز ہی سمجھیےْ کہ لیلیٰ بیمار ہوئی ۔ صحت یابی کے بعد خیرات تقسیم ہوئی ۔ ہرایک کو خیرات ملتی گئی مجنوں کی باری آئی تو لیلیٰ نے اوندھا ہاتھ مار کے مجنوں کاپیالہ توڑ دیا ۔ مجنوں نے پیالہ اٹھایا اور رقص کرنا شروع کر دیا اور بتایا کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوا مجھے سب سے الگ سمجھا تو پیا لہ توڑا ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پھر کسی ماہر ”عامل بابے “ سے رجوع کریں سو فیصد گارنٹی ہے” محبوب “دوڑتا ہوا قدموں میں آجائے گا۔


Posted on April 12, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: