ماں کی عظمت کیا ہوتی ہے؟


اگر میری ماں زندہ ہوتی، میں نماز میں اللہ کے حضور کھڑا ہوتا ۔ ماں آواز دیتی میں نماز چھوڑ کر دوڑ کے ماں کے پاس جاتا اور دنیا والوں کو بتاتا کہ ماں کی عظمت کیا ہوتی ہے۔یہ فرمان اللہ کے محبوب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ہے۔
ماں نے بچے کو پیٹ میں کیسے رکھا؟اس دوران کیا کیا ذہنی اور جسمانی اذیتیں برداشت کیں۔ بچے کی پیدائش سے لیکر ساری زندگی ایک ماں کن کن کیفیات اور مراحل سے گزرتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بقول تابش کیفیت اس طرح کی ہوتی ہے
اک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش
میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
محبت اور پیار کے سارے استعارے ماں پر آکر ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے تو ہمارے آقا نے فرمایا ۔”ماں باپ کے چہرے پر پیار بھری ایک نگاہ ڈالنا حج اکبر کے برابر ہے۔“ اولاد کا پیار ماں کو جگائے رکھتا ہے۔ ۔۔ بیما ر ہوجائے تو تڑپ جاتی ہے ماں۔۔۔ ذرا سی چوٹ لگ جائے تو ماں جاں نثار کر دیتی۔۔ ۔خود بے آرام رہتی ۔۔۔ زندگی بھر بے آرام ۔ اور بقول شاعر
موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب جا کے سکوں تھوڑا سا پاتی ہے ماں
گذشتہ روز ایک ماں آنکھوں میں آنسوﺅں کی برسات کے ساتھ اپنی داستان غم سنا رہی تھی۔ایک ہی بیٹا ہے ۔ اس کا باپ میری جوانی میں فوت ہوگیا۔ بچے کو پڑھایا لکھایا ۔ اس کی خواہش تھی کہ باہر جا کے پڑھوں۔ اکیلا بیٹا تھا۔ دل پر پتھر رکھ کر یہ خواہش پوری کردی۔ مجھے بہت پیار کرتا تھا۔ پڑھ لکھ کر باہر ہی شادی کر لی ۔ آج بارہ برس سے زاہد کا عرصہ بیت چکا ہے ملنے نہیں آیا۔ ملنا تو دور کی بات فون پر بات بھی نہیں کرتا۔اگر خود فون کروں تو سنتا نہیں ۔
ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ ماں کی نم ناک آنکھوں نے مجھے بھی غمناک کر دیا۔ میں نے عرض کی اماں جی! کہیں پڑھا ہے اور فطرت کا اصول بھی کچھ اسی طرح ہے کہ تین گناہوں کی سزا اس دنیا میں مل جاتی ہے اس کے لیے قیامت کا انتظار نہیں کرنا پڑھتا ۔
والدین کی نافرمانی اور انہیں اذیت پہنچانا۔۔۔اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم کرنا۔۔۔لوگوں کے احسان اور نیکیوں کو بھلا دینا۔
ماں چونک گئی اور کہنے لگی ۔اللہ میرے بیٹے کو سلامت رکھے۔ ہر قسم کی پریشانیوں سے دور رکھے۔ میں اپنے بیٹے کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ عرض کی ماں جی! آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتیں ہیں ؟کیوں کہ آخرآپ ماں ہیں۔ مگر فطرت کا اصول اپنے طریقے سے احتساب کرتا ہے اور اس کی گرفت سے بچنا مشکل ہے۔ فون نمبر دے دیں کوشش کرونگا اگر آپ کے بیٹے کے دل پر پڑھے غفلت کے پردے اور آنکھوں سے وہ پٹی ہٹا سکوں۔ جن سے اسے جنم دینے والی ماں نظر نہیں آتی ۔ جس جس کے ماں باپ زندہ ہیں وہ انہیں بوجھ سمجھنے کی بجائے اللہ کی رحمت سمجھ کر جس قدر سمیٹ سکتا ہے سمیٹ لے۔ اس سے پہلے کہ وہ موت کی آغوش میں چلے جائیں اور آپ کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ بھی نہ ہو۔


Posted on April 8, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. ماں میری ماں مجھے ھمیشہ پیار دینا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: