قیدی نمبر46664۔۔میں انسان ہوں فرشتہ نہیں



قیدی نمبر46664۔۔ میں انسان ہوں فرشتہ نہیں

کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ گندم کا دانہ زمین میں دب جاتاہے۔ منوں مٹی تلے دبے بیج کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ زمین میں بوئے ہوئے دانے کا وجود ختم ہو جاتا ہے مگر جب اس کا سینہ چاک ہوتا ہے تو ایک دانے سے کئی دانے ۔۔۔ پھر کئی فصلیں اور سرسبز وشاداب لہلہاتے کھیت وجود میں آتے ہیں۔ انسان کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔۔۔ اگر وہ پھل دار۔۔۔ سایہ دار۔۔۔ نفع بخش۔۔۔ فیض رساں بننا چاہتاہے تو اسے اپنے اندر موجود ہر اس خواہش کو فنا کرنا پڑتا ہے جو کسی بھی اعلیٰ مقصد کے راستے کی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ نفسانی لذات ۔۔ دولت کی ہوس۔۔ شہرت کی بھوک۔۔ تکبر کا بت۔۔ خودپسندی کی لعنت۔۔ نفرت، کدورت، حسد کی آگ۔۔۔ خود پرستی کا خناس۔۔۔ عیش کوشی و عیش پرستی کی نحوست۔۔۔ سب کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ان ساری بظاہر پرکشش لعنتوں اور خواہشات کو کچلنا پڑتا ہے۔۔ تب جاکر بنجر زمینیں آباد ہوتی ہیں۔۔۔ کھیتوں میں سبزے لہلہاتے ہیں۔ مردہ قوموں کی مثال بھی بنجر زمینوں کی طرح ہوتی ہے ۔۔کوئی آنے والی نسلوں کے لیے اپنی جوانی ۔ شباب۔۔عیش۔۔ سب کچھ فنا کردیتا ہے اور قومیں صدیوں کی ذہنی اور جسمانی غلامی سے آزادہوجاتی ہیں ۔۔۔ پوچھا اتنی طویل جیل کے باوجود شخصیت میں تلخی نظر نہیں آتی جواب دیا کہ” مقصد کی لگن تلخیاں بھلادیتی ہے۔۔” جیل کے چھوٹے سے کمرے میں ساری جوانی اورشباب گزر گیا ۔بڑھاپا چھاگیاقید بھی بامشقت اور تنہائی کی ۔۔۔ 1969ءمیں اپنی دو بیٹیوں کے نام جیل سے خط لکھا” میری بیٹیو! اب نہ تو آپ کا برتھ ڈے ہوسکے گا نہ کرسمس پارٹی۔۔نہ نئے نئے لباس ملیں گے۔۔ نہ نئے اور خوبصورت کھلونے ۔۔اب تمہیں شاید ایک لمبے عرصے تک ایک یتیم کی سی زندگی گزارنا ہوگی۔۔” 24سالہ بیٹا مرگیا۔۔ جنازے میں چند لمحوں کے لئے شرکت کی جازت بھی نہ ملی۔ بہت پیش کشیں ہوئیں۔۔۔ پرکشش ترغیبات دی جاتی رہیں۔۔ مشروط رہائی ، مال دولت سب کچھ آفر کیا گیا ۔۔۔ مگر پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔۔۔ یہ کڑیل جوان جب جیل سے نکلا توبوڑھا ہوچکا تھا۔۔۔ باہر کی دنیا سے اتنا دور کہ کہتا ہے جب جیل سے نکل کر باہر آیا توجیل کے دروازے پر ایک عجیب کالی سی ہتھیارنما چیز سامنے دیکھی ۔۔سوچا شاید یہ کوئی جدید اسلحہ ہے۔۔ ساتھ کھڑے دوست نے بتایا نہیں یہ ٹی وی کمرہ ہے۔ پریس ۔۔ میڈیا نے بہت زور لگایا کہ نسلی تعصب کا کوئی جملہ زبان سے نکلے تاکہ دنیا بھر کے اخبارات۔۔ ٹی وی چینلز کی سنسنی خیز سرخیاں بن سکیں، مگر ایسا نہ ہوسکا۔۔۔ بڑے مجمع عام میں کھڑے ہو کر اعلان کردیا کہ رنگ و نسل کی کوئی تمیز نہیں۔۔۔ جمہوریت ہوگی، انسانیت کا احترام ہوگا، سماجی انصاف ہوگا۔ ۔۔آپ یقیناً جان چکے ہوں گے کہ یہ شخص ہمارے عہد کا عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا ہے۔۔۔ صرف چار سال صدارت کی کرسی پر رہا۔۔ پھر ایڈز کے موزی مرض میں مبتلا لوگوں کی خدمت میں لگ گیا اور منڈیلا فاﺅنڈیشن بنائی۔۔۔ اس کے علاوہ 46664 کے نام سے بھی ایک تنظیم قائم کی جسکا مقصدصرف قربانی کی یاد دھانی ہے۔ 46664 دراصل نیلسن منڈیلا کاجیل کے اندر قیدی نمبر تھا۔۔ گذشتہ روز 11فروری کو اس عظیم راہنماءکی جیل سے رہائی کی 23سالہ تقریب میں جنوبی افریقہ کے موجودہ صدر جیکب زوما نے اعلان کیا کہ جنوبی افریقہ اپنے ملک کی کرنسی تبدیل کررہا ہے۔۔۔ اب ملکی کرنسی کے نوٹوں پر نیلسن منڈیلا کی تصویر ہوگی۔۔۔ صدر زوما کا کہنا ہے۔ “ہم اپنی اس عاجزانہ کوشش سے نیلسن منڈیلا کے ساتھ اپنی انتہائی عقیدت کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی جنوبی افریقہ کے عوام اور انسانیت کے لیے صرف کی ۔۔۔ ” نیلسن منڈیلا نام کا یہ شخص اپنے اندر بڑی عاجزی اور انکساری رکھتا ہے۔ اس نے اپنے ذاتی زندگی کو بھی( جوعام طور پر لوگ پوشید ہ رکھتے ہیں) کوایک کتاب کی صورت میں سب کے سامنے رکھ دیا۔۔۔ وہ کہتا ہے میں انسان ہوں فرشتہ نہیں ۔۔۔۔ امید ہے اسی سال اگست 2012ءکو نیلسن منڈیلا اپنی 94ویں سالگرہ منارہے ہوں گے۔سچ یہ ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے اور بہت کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا پرتا ہے۔۔۔

Posted on February 12, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: