رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان ۔۔۔امت سید لولاک سے خوف آتا ہے


رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان ۔۔۔امت سید لولاک سے خوف آتا ہے
افتخار عارف سے معذرت کے ساتھ ہمیں امت سید لولاک کے خود ساختہ رہنمائوں کے کردار و عمل سے خوف آتا ہے۔جو بتاتے ہی نہیں ہیں، بتانا ہی نہیں چاہتے یا جانتے ہی نہیں کہ سید لولاک کی سیرت و کردارہے کیا؟

پیغمبر انقلاب ۖ عدی بن حاتم سے فرمارہے ہیں کہ” بخدا وہ وقت قریب آرہا ہے جب تو سن لے گا کہ اکیلی عورت قادسیہ سے چلے گی اور مکہ کا حج کرے گی اور اسے کسی کا خوف ڈر نہ ہوگا۔”

یہ اللہ کے نبی ۖ کے وہ الفاظ ہیں جن میں آنے والے ایک خوبصورت انقلاب کی ویژن دی گئی ۔ بتایا جا رہا تھا کہ انسانی ذہن کی ساخت ،افکار ، خیالات ،رجحانات ،ذوق ،دلچسپیاں ، عادتیں ، طبیعتیں ، انداز فکر کیسے بدل جائیں گے ۔ تصور دیا جا رہا تھاایک گریٹ ٹرانسفارمیشن کا ۔۔۔ ذہن و دل کی کایا دیکھتے دیکھتے صرف 23برسوں میں یو ں پلٹی کہ چور اور ڈاکواموال کے امین اور نگہبان بن گئے ۔ زانی اور بدکار عز توں ، عفتوں اورعصمتوں کے رکھوالے ۔۔۔ مال و دولت لوٹنے والے اپنا مال خلق خدا کی خدمت پر لٹانے لگے ۔۔۔ فرعون خصلت اور تکبر کرنے والے عاجزی و انکساری کا پیکر بن گئے ۔۔۔ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے والے اخوت ومحبت کے رشتے میں بندھ گئے۔۔۔غریب ،امیر، دولت مند، غلام ، آقا کی تمیز ختم ہو گئی ۔۔۔ تعظیم و تکریم کے سارے معیارات بدل گئے ۔۔۔ گزرے دن کا حبشی غلام ”بلا ل” اب سیدنا بلال بن چکا تھا ۔۔۔ کرخت چہروں پر مسکرائٹیں اتر آئیں ۔۔۔ سنگ دل موم ہو گئے ۔۔۔ مانگنے والے دینے والے بن گئے۔۔۔ زندہ درگور ہونے والی بچیاں باپ کے سایہ شفقت و محبت میں آگئیں ۔۔۔ وحشی اور منتشر قبائل ایک مہذب قوم بن گئے ۔۔۔ حسن عمل ، حسن معاملہ ، حسن سلوک ، جود و سخا ، ایثار و قربانی ، احسان ،مہمان نوازی ، سادگی ، بے تکلفی ، صداقت و امانت ،قناعت و بے نیازی ، عفوو درگز ر ، ایفائے عہد ، تحمل و بردباری ،اعتدال و توازن ،معاملہ فہمی اور اعلیٰ ظرفی جیسے اعلیٰ ترین اوصاف معاشرے کی امتیازی پہچان بن گئے۔

محض 23برس میں یہ سب کچھ کیسے ہو گیا ؟ اس کے لیے سیرت الرسول ۖ کا مطالعہ ضروری ہے ۔ ہم سیرت کا درس اس لیے نہیں دیتے کہ خود ویسا کرنا پڑتا ہے ۔ اپنی ذات کی قربانی دینی پڑتی ، اپنی خواہشات کو کچلنا پڑتا ہے ۔ اپنی زندگی کی عیاشیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے۔غریبوں ، مسکینوں ، حاجت مندوں ، بے کسوں ، مجبوروں ، غلاموں سے کے لیے دروازے کھلے رکھنے پڑتے ہیں ۔ اپنی ذات سے قربانی کا آغاز کرتے ہوئے ۔ڈرتے ہیں ۔ ذات کی قربانی کیسے دینی پڑتی ہے ۔

آئیے ذرا دنیا کے خزانوں کے مالک کے گھر احوال سے نظر ڈالتے ہیں ۔ بخوبی سمجھ آجائے گی کہ تبدیلی کیسے آتی ہے ۔

حضرت فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) اپنے گھر کا کام خود کرتیں ۔ چکی پیستیں،ہاتھوں پہ چھالے پڑ جاتے ،گھر کی صفائی کرتے کرتے تھک جاتیں،چمڑے کے ایک بڑے بیگ میں دور سے پانی خود اٹھا کے لاتیں جس سے گردن پہ نشان بھی پڑ جاتے ،حضور ۖکے پاس بہت سے غلام آئے ۔حضرت علی نے عرض کی حضور ۖ کے پاس چلی جائو اور ایک غلام کی درخواست کرو ۔ حکم کی تعمیل کی چلی گئیں ۔ دیکھا حضورۖ کے پاس بہت سے لوگ بیٹھے ہیں کچھ کہے بغیر واپس آگئیں۔حضور ۖ فاطمہ کے گھر آئے پوچھا خاموشی سے واپس آگئیں ۔ کچھ کہنا چاہتی تھیں ۔ مدعا بتایا اللہ کے رسولۖ نے فرمایاگھر کا کام جاری رکھو ۔ جب رات کو بستر پہ جائوتو یہ یہ ذکر پڑھ لیا کرو ۔ نوکر رکھنے سے یہ زیادہ بہتر ہے۔

کسی نے تحفے میں سیدہ عالم (رضی اللہ عہنا)کو سونے کا ہار دیا ۔ حضورۖ نے دیکھا توحال احوال پوچھے بغیر واپس لوٹنے لگے ۔ عرض کیا حضور ۖ !کسی بات سے ناراضگی ہو گئی۔فرمایا فاطمہ ! میں پسند نہیں کرتا کہ باہر مسلمان کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہوں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کی بیٹی گھر میں سونے کا ہار پہنے بیٹھی ہو۔

نبی کریمۖ دعا فرمایا کرتے تھے ۔”اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ ۔ مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھا اور مسکینوں کے ساتھ میرا حشر فرما۔”
حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ حضور ۖ  نے مدینہ آکر متواتر تین دن تک گھیو کی روٹی نہ کھائی ۔ یہاں تک کہ آپۖ اس دنیا سے رحلت فرما گئے ۔ خانہ اقدس میں دو دو مہینے تک چولہا نہ جلتا جو کچھ آتا تقسیم ہو جاتا تھا۔نرم بستر پر کبھی آرام نہیں فرمایا۔
حسن و حسین(رضی اللہ عنہما) کو چاندی کے کنگن پہنے دیکھ کر کنگن لے لیے اور اپنے صحابی ثوبان کو فرمایا یہ فلاں شخص کو دے آئو کیونکہ میں اپنے گھر والوں کے لیے پسند نہیں کرتا کہ یہ دنیاوی زندگی میں لذتوں سے آشنا ہوں اور فائدہ اٹھائیں ۔ البتہ چونکہ یہ بچے ہیں دل بہلانے کے لیے ہاتھی کے دانت کنگن خرید لائو۔

دین کے ٹھیکے داروں ۔۔۔ شریعت کے خود ساختہ راہبروں ۔۔۔ انقلاب کے دعوے داروں ۔۔۔ قوم کی خدمت کے علم برداروں ۔۔۔ تبدیلی کے صدا کاروں کے لیے پیغام ہے کہ تبدیلی کا سفر سب سے پہلے اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرو

بقول علامہ اقبال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو

ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار

Posted on February 4, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: