وہی آبلے ہیں وہی جلن سوز جگر میں کمی نہیں ۔۔۔۔۔ قدرت اللہ شہاب کی کتاب (شہاب نامہ ) سے اقتباس


وہی آبلے ہیں وہی جلن سوز جگر میں کمی نہیں

ایسے ممالک کی ایک لمبی فہرست ہے جو 64سال میں آزاد ہوئے ، معاشی ،سیاسی، سماجی ترقی کی منزلیں طے کیں۔مگر بنیادی اصول ایک ہی رہا اداروںکی ہم آہنگی، نظام کا تسلسل اور اصلاح احوال کا احساس، غلطیوں کا اعتراف اور ازالہ، تنقید سے سبق سیکھنے کا عمل ۔ مگربدقسمی سے غدار وطن ، ملک دشمن ، دشمنوں کے ایجنٹ کافر، مشرک ، اسلام سے خارج اور اسلام دشمن کے سب سے زیادہ فتوے ہمارے ہی ملک کا مقدر بنے۔ہم نے خدا بن کے داخلہ ،خارجہ رجسٹر بھی اپنے پاس رکھے۔ جس کو چاہا ملک دشمن اور غدار وطن ٹھہرا دیااور جس سے چاہا ”محب وطن ”بنا دیا ۔حقیقت یہ ہے ہر شخص اپنی مادر وطن سے پیا ر کرتا ہے۔کاش ہم یکسو ہو کر اس ملک کے مستقبل کی کوئی منصوبہ کر سکتے ! ۔قدرت اللہ شہاب کی کتاب ”شہاب نامہ ” پڑھتے ہوئے ایک صفحے پر نظر ٹھہر گئی سوچا آپ سے شیئر کر تا چلوں ۔ کیونکہ

وہی آبلے ہیں وہی جلن سوز جگر میں کمی نہیں

جو آگ تم لگا گئے تھے جل رہی ہے بجھی نہیں

”ایبڈو” کے تحت فردِ جرم ثابت ہونے پر ملزم کو چھ برس تک سیاست سے کنارہ کش رہنے کی سزا ملتی تھی ۔ البتہ اتنی رعایت ضرور تھی کہ اگر کوئی صاحب عدالت میں حاضر ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا نہ چاہتے ہوں تو وہ رضا کارانہ طور پر چھ سال کے لیے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کر کے اپنی گلو خلاصی کراسکتےتھے۔

ان بڑے اور ممتاز سیاستدانوں کی فہرست پر نگاہ ڈالی جائے تو اس زمانے میں سیاست کی کوئی اہم شخصیت ”ایبڈو” کی زد سے باہر نظر نہیں آتی ھو۔
بڑے اور مشہور سیاست دانوں کے علاوہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں دو ہزار سے اوپر نچلی سطح کے سیاسی کارکن بھی ”ابیڈو” کا شکار ہوئے۔ یہ وہ حضرات تھے جو 1947ء سے لے کر 1958ء تک کسی وقت بھی کسی اسمبلی ، میونسپلٹی ڈسٹرکٹ بورڈ یا دیگر منتخب شدہ ادارے کے رکن رہ چکے تھے۔
ان اعداد و شمار سے صرف ایک بات پایۂ ثبوت کر پہنچتی ہے کہ ایک فوجی افسر چھائونیوں کی محدود فضا میں اپنی عمر عزیز کے باون سال گزرنے کے بعد اچانک مسلح افواج کے ناجائز استعمال سے ایک سول حکومت کو زبردستی نکال باہر کرتا ہے اور خود مسند اقتدار پر قبضہ جما کے بیٹھ جاتا ہے،لیکن اس ایک عمل سے یہ لازمی نہیں کہ اس پر عقل و دانش کی ایسی بارش شروع ہو جائے کہ وہ ملک بھر کے تمام اکابرین اور ہزاروں کارکنوں کو بیک جنبش قلم نا اہل ، ناکارہ اور نالائق ثابت کرنے میں حق بجانب بھی ہو۔
صدر ایوب کو یہ چسکا تھا ”ایبڈو” کی زد میں آئے ہوئے خاص خاص مشہور و معروف سیاست دانوں کی بد اعمالیوں اور بد عنوانیوں کی تفصیلات ان کے اپنے علم میں بھی آئیں۔ اس مقصد کے لیے انہوںنے باسٹھ ناموں کا انتخاب کیا اور مجھے حکم دیا کہ ”ایبڈو” کے تحت مقدمات سماعت کرنے والی خصوصی عدالتوں سے میں ان سب کے مکمل ریکارڈ حاصل کروں اور ہر ایک کی بد اعمالیوں اور بد عنوانیوں کا خلاصہ تیار کر کے ان کے ملاحظہ کے لیے پیش کروں۔
”ایبڈو” کے ان باسٹھ و بالا پہاڑوں کو جب میں نے کھود کھود کر دیکھا تو ان میں سے بد اعمالیوں اور بد عنوانیوں کی ایسی چھوٹی چھوٹی چوہیاں برآمد ہوئیں۔جو آج کے ماحول میں انتہائی بے وقعت اور بے ضرر نظر آتی ہیں۔ چند سیاستدانوں پران کے مخالفین کی طرف سے وقتا فوقتا ”غداری” کا الزام ضرور لگ چکا تھا۔ لیکن کسی فائل میں کسی کے خلاف وطن دشمنی کی نہ کوئی شہادت یا علامت تھی اور نہ کوئی ثبوت تھا۔ ملک کے مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام بھی جگہ جگہ چسپاں تھا، لیکن اس کی بنیاد بھی یا تو ذاتی عداوتیں اور مخاصمتیں تھیں یا سیاسی رقابتوں کی وجہ سے ایسے مبہم مفروضوں اور تہمتوں پر مبنی ہوتی تھی جو واقعات اور شواہد کی روشنی میں کسی صورت بھی قابل گرفت قرار نہ پاتی تھی۔اس کے علاوہ یہ باسٹھ نامور سیاست دان جو کسی نہ کسی وقت وزیر یا کسی اور عہدے پر فائز رہ چکے تھے ، ان کے خلاف الزامات کی نوعیت عموماً کچھ اس طرح کی تھی:
٭ سرکاری ٹیلی فون اور سٹاف کار کا بے جا استعمال:۔
٭ پی اے یا پرائیویٹ سیکرٹری کے لیے ان کے استحقاق سے زیادہ مراعات۔
٭ اپنے انتخابی حلقوں میں ترجیحی طور پر سڑکوں ، سکولوں یا ڈسپنسریوں کی تعمیر۔
٭ اپنے با اثر دوستوں، رشتہ داروں یا سیاستدانوں یا و ڈیروں کے مفاد میں سرکاری افسروں پر دبائو یا سفارشیں۔
٭ اپنے انتخابی حلقوں اور اپنے دوستوں اور سیاستدانوں کے علاقوں میں پٹواریوں ، تھانے داروں ، نائب تحصیل داروں اور دیگر سرکاری کارندوں کے تبادلوں اور تقرروں میں دخل اندازی۔
٭ انتخابات کے وقت دھاندلی کے بلا ثبوت الزامات۔
٭ سرکاری تقرریوں میں پبلک سروس کمیشن کی سفارشات کو نظر انداز کرنے کا رجحان۔
٭ سرکاری دوروں پر سرکاری انتظامات کا سیاسی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال۔
٭ محکمانہ اخراجات کا منظور شدہ بجٹ سے بڑھ جانے کی مثالیں۔
٭ ایسے منصوبوں کی مثالیں جن پر اخراجات منظور شدہ تخمینوں سے تجاوز کر گئے۔
٭ بے شمار مثالیں جن میں فلاں فلاں ٹیکس لگائے جا سکتے تھے۔ لیکن اس لیے نہ لگائے گئے کہ سیاسی حکمران ہر دلعزیز بنے رہیں۔ وغیر ہ وغیرہ۔
باسٹھ چیدہ چیدہ چوٹی کے سیاستدان کے خلاف صدر ایوب نے جب اس قسم کی بے مزہ پھیکی اور پھسپھسی سی فرد جرم پڑھی تو وہ بے حد حیران ہوئے۔ انہوں نے تعجب سے کئی بار یہ سوال دہرایا”بس اتنا کچھ ہی ہے؟”
میں نے یقین دلایا کہ جو فائلیں مجھے دستیاب ہوئیں ہیں ، ان میں بس اتنا کچھ ہی ہے۔
”اگر یہ بات ہے ۔” صدر ایوب نے کسی قدر حیرت سے کہا ”تو یہ ساٹھ ستر جغادری سیاستدان دُم دبا کر بھاگ کیو ںگئے؟مردانگی سے کام لے کر ایبڈو کا مقدمہ کیوں نہ لڑے ؟”
”شاید مارشل لاء سے ڈرتے ہوں ۔”میں نے کہا ”یا شاید عزت بچانے کی خاطر اپنے آپ ریٹائر ہو کر بیٹھ رہے ہوں۔”
”یہ بات نہیں۔” صدرایوب نے فیصلہ صادر کیا”تمہاری فائلیں اُن کا جر م ثابت کریں یا نہ کریں ، لیکن ان کے ضمیر مجرم ہیں یہ بات ان کو بخوبی معلوم ہے۔”
کہنے کو تو یہ بات انہوںنے بڑے طمطراق سے کہہ دی ، لیکن میرا اندازہ ہے کہ یہ محض دکھاوے کی بہادری کا اُبال تھا۔ ایک تجربہ کار فوجہ کی طرح ان میں خود حفاظتی اور خود بقائی کی رگ نہایت مضبوط تھی۔ چنانچہ انہوںنے ذہنی طورپر یہ بات گرہ باندھ لی کہ سیاست دان اتنی گلی سڑی فنا پذیر جنس نہیں جنہیں ”ایبڈو” کی تلوار یا رضاکارانہ طورپر چھ سال کے لیے سیاست سے کنارہ کشی ہمیشہ کے لیے نیست نابوود کردے۔ میں نے خاص طور پر نوٹ کیا کہ اس کے بعد رفتہ رفتہ انہوںنے موقع بہ موقع سیاست دانوں کے خلاف بدکلامی ، گالی گلوچ اور طعن و تشنع کا برملا اظہار بہت کم کر دیا ۔
ساتھ انہوں نے ”بنیادی جمہوریت” کا نظام رائج کر کے سر توڑ کوشش کی ملک میں پرانی طرز سیاست کی جگہ ایک بالکل نئی اور انوکھی سیاست کو جنم دیا جائے۔ ان کو یقین تھا کہ بنیادی جمہورتیوں کے تحت جو اسی ہزار نمائندے منتخب ہوں گے ان میں کم از کم کچھ لوگ تو ایسے ضرور نکلیں گے جو قابلیت، ذہانت، وجاہت اور صلاحیت میں پرانے سیاستدانوں کے ہم پلہ یا ان سے بھی ارفع و اعلیٰ ہوں۔ لیکن ان کی یہ امید بر نہ آئی۔البتہ لگے ہاتھوں بنیادی جمہورتیوں کے ان اسی ہزارمنتخب اراکین کا اتنا فائدہ ضرور اٹھایا گیا کہ ان کے ووٹ حاصل کر کے ایوب خان نے اپنی صدارت پر مہر تصدیق ثبت کرالی۔۔
اس ریفرنڈم کے دور روز بعد 17فروری1960ء کو انہوںنے صدر پاکستان کے طور پراز سر نو حلف اٹھایا اور اس کے فورا بعد آئین سازی کی طرف متوجہ ہوئے۔ جسٹس شہاب الدین کی سرکردگی میں آئین کمیشن نے جو سفارشات پیش کیں، وہ صدر ایوب کو قابل قبول نہ تھیں۔ اب وہ چند ماہرین کو ساتھ لے کر بذات خود آئین کا خاکہ بنانے میں مصروف ہوگئے۔ یہ عمل بڑا طویل ،صبر آزما اور بسا اوقات مضحکہ خیز بن جاتا تھا ۔ صدر ایوب انتہائی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کرکرسی پر بیٹھ جاتے تھے۔ ان کے ایک وزیر خارجہ مسٹر منظور قادر آئینی مشیر کے طور پر جگہ سنبھالتے تھے۔ دوسری جانب ایک دو قانونی ماہر بیٹھتے تھے۔ سامنے چند ایسے افسر بٹھائے جاتے تھے جو رائے دینے کی ہمت یا اہلیت تو نہیں رکھتے تھے البتہ نہایت سرگرمی سے ہاں میں ہاں ملانے کے خوب ماہر تھے۔ایسی محفلوں کی روائیداد قلم بند کرنے کے لیے صدر کے سیکریٹری کے طور پرپ مجھے حاضر رہنا پڑتا تھا۔ کم و پیش گھنٹہ بھر صدر ایوب اپنے ”سیاسی فلسفہ” پر تقریر فرماتے تھے۔ جی حضوری حاضر باش سر ہلا ہلا کر اور ہاتھ نچا نچا کر داددیتے تھے اور منظور قادر صاحب کو یہ فریضہ سونپا جاتا تھا کہ وہ آج کے صدارتی ملفوظات کو آئینی شقوں میں ڈال کر لائیں۔
ایک روز صدر ایوب نے حسب معمول اپنے ”سیاسی فلسفہ” پر ایک طولانی تقریر ختم کی تو ایک سنیئر افسر وجد کی کیفیت میں آکر جھومتے ہوئے اٹھے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر عقیدت سے بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”جناب ! آج تو آپ کے افکار عالیہ میں پیغمبری شان جھلک رہی تھی۔”
یہ خراج تحسین وصول کرنے کے لیے صدر ایوب نے بڑی تواضع سے گردن جھکائی۔ یہ سنیئر افسر مرزائی عقیدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ معاً مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں صدر ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ کے اڑن کھٹولے میں سوار ہو کر بھک سے اوپر کی طرف نہ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے میں نے بھی اسی طرح عقیدت سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا اور نہایت احترام سے گزارش کی”جناب! آپ ان صاحب کی باتوں میں بالکل نہ آئیں کیونکہ انہیں صرف خود ساختہ پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے۔”
بات بڑھنے لگی تھی ،لیکن صدر ایوب نے بیچ بچائو کر کے معاملہ رفع دفع کر دیا اور حکم دیا کہ باہر جانے سے پہلے ہم ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ ہاتھ ملائیں اور گلے ملیں۔
اسی طرح کی چھان پھٹک اور لگاتار محنت کے بعد خدا خدا کر کے صدر ایوب کا آئین مرتب ہوا۔ اس کی نوک پلک درست کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً بیرون ملک سے بھی کچھ ماہرین آتے رہے۔ 1962ء کے شروع ہی سے اس قسم کی خبروں اور افواہوں کا تانتا بندھ گیا کہ عنقریب نیا آئین نافذ ہوتے ہی مارشال لاء اٹھ جائے گا اور اس کے بعد ملک میں از سر نو سیاسی سرگرمیوںکی اجازت مل جائے گی۔ غالباً 7یا8فروری کا دن تھا۔ میں ایوان صدر راولپنڈی میں اپنے کمرے میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ اچانک صدر کا ہیڈ اردلی میرے لیے چائے کی پیالی لے کر آیا اور پریشانی کے لہجے میں رازداری سے بولا”آج جی ایچ کیوسے کئی جرنیل صدر صاحب سے ملنے آئے ہوئے ہیں۔گھنٹہ بھر سے میٹنگ چل رہی ہے۔ بیرا چاہے لے کر گیا تو ڈانٹ کر نکال دیا کہ ابھی مت آئو۔ کبھی کبھی اندر سے کافی بلند آواز سنائی دیتی ہے ۔اللہ خیر کرے۔” یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ اس قسم کی کوئی طویل میٹنگ صدر کے آج پروگرام میں درج نہ تھی۔

ایک پاکستان کی حیثیت ہماری خواہش بھی ہے، تڑپ اور آرزو بھی، تمنا بھی ہے اور طلب بھی ،صدا بھی ہے اور دعابھی کہ
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے             وہ فصلِ گل جسے اندیشہِ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کیلئے           حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

Posted on February 1, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. Our issues r not political in nature but of governance and socio-economic..We don’t need a politician but a fair management wid vision..We also do not require army of thugs and bandits working at their master’s voice, Japan has progressed without a big army..We need just peace and quality education clubbed wid research only….

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: