حادثہ تھا گزر گیا ہوگا ۔۔۔کس کے جانے کی بات کرتے ہو


حادثہ تھا گزر گیا ہوگا ۔۔۔کس کے جانے کی بات کرتے ھو

حادثہ تھا گزر گیا ہوگا ۔۔۔ کس کے جانے کی بات کرتے ہو ۔۔۔ دل جلانے کی بات کرتے ہو ۔۔۔ آشیانے کی بات کرتے ہو ۔۔۔ ہم کو اپنی خبر نہیں یارو ۔۔۔ تم زمانے کی بات کرتے ہو ۔۔۔ سارے دنیا کے رنج و غم دے کر ۔۔۔ مسکرانے کی بات کرتے ہو۔

موضوعات بدلتے رہیں گے ۔آج زندگی وموت، قومی سلامتی اورغیرت کا انتہائی سنگین معاملہ کل کی گزری ہوئی کہانی بن جائے گی۔بقول وزیر اعظم ”رات گئی بات گئی”۔
تیس اکتوبر کو مینار پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انکشاف کیا کہ ”صدر زرداری نے امریکہ میں ایک سفیر بٹھایا ہوا ہے کہتا ہے پاکستانی ہے مگر وہ امریکی سفیر ہے جس کا نام حسین حقانی ہے ۔وہ ایک خط دیتا ہے امریکیوں کو کہ خدا کے واسطے مجھے پاکستانی فوج سے بچا لو ۔”اس جلسہ کے بعدمذکورہ خط ،کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ”قومی سلامتی ”ایک انتہائی سنگین معاملہ بن گیا۔عمران خان ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے کر جائیں۔
مگر مینار پاکستان کے جلسے کے بعد مسلم لیگ ن کے بہت سے مشیروں نے میاں نواز شریف کو مشور ہ دیا کہ آپ عمران خان سے پہلے یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جائیں ۔ نواز شریف نے 20نومبر کو فیصل آباد دھوبی گھاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آزادکشمیر سمیت تمام صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کا اعلان کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ”ہماری عزت نفس ، خود مختاری اور قومی سلامتی کا سودا کیا گیا۔ساتھ ہی انہوں نے اس” عزم ”کو بھی دہرایا کہ پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہماری پانچ لاکھ فوج دن رات وطن کا دفاع کر رہی ہے۔”
بالآخر پٹیشن سپریم کورٹ میں داخل ہو گئی ۔ خبرآئی کہ مسلح افواج کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اپنے جوابات داخل کرا دئیے۔سیکریٹری دفاع خالد نعیم لودھی نے کہاکہ ”حکومت کے پاس ملک کی بری فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا صرف انتظامی کنٹرول ہے ۔جبکہ آپریشنل کنٹرول نہیں۔”
معاملہ جب عدالت پہنچا تو وفاق کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل نے”قو می سلامتی کے میمو”کو کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیاتو چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ اگر یہ میمو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے تو پھر اس پر ملک اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے اتنے اجلاس کیوں ہوئے؟ حسین حقانی سے استعفیٰ کیوں لیا گیا وزیراعظم نے اس کی تحقیقات کا حکم کیوں دیا ؟ جسٹس میاں شاکر اللہ جان نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ”فوج کا سربراہ کہتا ہے کہ یہ معاملہ ملکی سلامتی سے متعلق ہے ۔”
اُدھر وزیر اعظم بھی پھٹ پڑے اور کہہ کہ مکر بھی گئے کہ ”ریاست کے اندر ریاست موجود ہے۔”پھر فرماتے ہیں ”آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا بیان غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ۔”
جواباً آئی ایس پی آر نے کہا کہ ” وزیراعظم کی جانب سے جنرل کیانی اور جنرل پاشا پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور دونوں افسران پر ان سے زیادہ سنگین الزامات نہیں ہوسکتے، جن کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔”
ہم نے اس دوران وزیر اعظم کے استعفے کی خبریں بھی سنیں اور جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو فارغ کرنے کی خبریں اور تبصرے زور شور سے سنے اور دیکھے۔ایسے لگ رہا تھا کہ ہمارے ملک کی 64سالہ تاریخ میں قومی خود مختاری اور سلامتی کا میمو گیٹ سے بڑا شاید کوئی معاملہ ہو۔وزیر اعظم ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کیلیے ڈیوس روانہ ہونے سے قبل اپنی کئی ہوئی بات کی خود ہی صاف صاف لفظوں میں تردید کر گئے کہ”جنرل کیانی اور جنرل پاشا کا بیان غیر قانونی اور غیر آئینی نہیں تھا۔”واپس تشریف لائے تو اسی بارے میں سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ”رات گئی بات گئی۔”
اس ساری فلم کا ڈراپ سین کچھ اس طرح ہوا کہ منصور اعجا ز جو بار بار کہتے رہے کہ میں سپریم کورٹ اوراس کے مقرر کردہ کمیشن کے سامنے ہر صورت میں پیش ہوں گا۔اپنی بات سے صاف مکر گئے کہ وہ پاکستان نہیں آسکتے۔عدالت نے بیرون ملک ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا۔حسین حقانی جو اس معاملے کے مرکزی” ملز م” تھے کو ملک سے باہر جانے کی اجازت مل گئی ۔حقانی آج صبح ایک پرائیویٹ طیارے کے ذریعے دوہہ کے لیے روانہ ہوئے جہاں سے وہ امریکہ چلے جائیں گے۔ منصور اعجاز بھی سوئزر لینڈ سے امریکہ پہنچ چکے ہیں۔ آپ اس سارے معاملے پر بین الاقوامی میڈیا میں جو کچھ پاکستان کے بارے میں لکھا اور بولا گیا ہے اسے پڑھ اور سن کر ہمیں سوائے شرمندگی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
میاں نواز شریف بھی پر سکون ہیں اور دس روز ہ بیرون ملک دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں ۔نواز شریف ہو عمران خان ہوجماعت اسلامی ہو یا باقی جماعتیں کم از کم میمو گیٹ کے معاملے پر ان کی جانب سے صاف خاموشی اور مکمل ٹھنڈ ہے۔ہماری سیاسی مفاد پرستی اس ملک اور قوم کی نشو و نما اور ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے خدمت اور عوامی رابطے کے بجائے کسی نہ کسی سکینڈل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ہر ادارہ اور جماعت اپنے مفاد کے تابع رہ کر ”قومی سلامتی ” کی اپنی تعریف ایجاد کر لیتا ہے اور یوں ہر روز ایک سے ایک تماشا اور نیا سے نیا بحران جنم لیتا رہتا ہے۔

Posted on January 31, 2012, in Current Affairs. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: